مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک سعودی امور سے واقف ذریعے کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن پر حملے کے لیے اپنے جنگی منصوبے تیار کرلیے ہیں اور اپنے اتحادیوں کو بھی ان منصوبوں سے آگاہ کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی سفارت کاروں نے اگست میں امریکی سینیٹروں کو بتایا تھا کہ انصاراللہ کے ساتھ سیاسی رابطے کے راستے ختم ہوچکے ہیں اور انہوں نے واشنگٹن سے ممکنہ حملوں کی حمایت کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق سعودی حکام نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ آئندہ اقدامات پر اتفاق کیا ہے جبکہ یمن کے خلاف کارروائی سے متعلق اپنے یورپی اتحادیوں کو بھی آگاہ کردیا ہے۔
سی این این نے مزید دعوی کیا کہ ریاض ان ممالک کو بھی یمن کی جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ایران کے خلاف امریکا کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار رہے ہیں۔
دوسری جانب یمن کی تحریک انصاراللہ نے سعودی عرب کی جانب سے یمن پر حملوں کے جواب میں گزشتہ روز جنوبی سعودی عرب میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے جبکہ جنوبی سعودی عرب میں متعدد تیل تنصیبات میں آگ لگ گئی۔
سعودی وزارت توانائی نے بھی حملے کے بعد توانائی کی بعض تنصیبات میں کچھ سرگرمیاں عارضی طور پر روکنے کی اطلاع دی ہے۔
دوسری جانب یمن کے شہر عدن میں امریکی سفارتخانے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں دعوی کیا کہ انصاراللہ نے اس تنازع کا آغاز کیا اور اسے اپنے اقدامات کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
سفارتخانے نے سعودی عرب کے اس مؤقف کی بھی حمایت کی کہ اسے اپنی سرزمین اور شہریوں کے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم بیان میں یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادی جنگجوؤں کے حالیہ حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ